ترجمہ  Exegesis: Urdu (4:32-37)

The following is a translation of Misha Az-Zahra’s exegesis of Surah Nisa 32-37 into Urdu by Warda Q. ❤ This is part of an effort to create exegesis in languages other than English because translations of the Qur’an in most languages are lacking and much of the Muslim world does not speak English. There are some formatting issues, unfortunately, because of technical difficulties. For those who would prefer a different typeface, the original document is available here with Warda’s translation: Exegesis

The formatting for the Urdu typeface is also correct on the document.


ترجمہ

۴:۳۲ اور اس کی مت ہوس کرو جو ہم نے بعض لوگ کو دوسروں کے اوپر عطا کیا ہے۔[۱] مردوں کے لیے ہے اس میں سے حصہ جو انہوں نے کمایا اور عورتوں کے لیے ہے اس میں سے حصہ جو انہوں نے کمایا۔[۲] اور اللہ سے اس کا فضل مانگو ۔ بے شک اللہ ہر چیز کا ہر معلومات جاننے والا ہے۔

۴:۳۳ اور سب کے لئے ہم نے ورثا مقرر کیے ہیں اس سے جو  والدین اور قریبی رشتہ دار چھوڑ چکے ہیں ۔ اور وہ جن سے تمہارا معاہدہ پیمان ہے ان کو ان کا  حصہ دو۔ [۳] بے شک اللہ ہر چیز کے اوپر گواہ ہے۔

۴:۳۴ مرد عورتوں کی کفالت کرنے والے ہیں/کو سہارا دینے والے ہیں [۴] اس کے ذریعے جو اللہ نے بعض کو دوسروں کے اوپر دیا[۵] اور جو وہ انہوں نے  اپنے مال سے خرچ کیا[۶]۔ تو صالح خواتین متقی ہوتی ہیں [ ۷] اور غیب میں اس کی حفاظت کرتی ہیں جس کی اللہ نے حفاظت کی[۸]۔ تو  وہ جن سے تم بےوفائی [۹] کا اندیشہ [۱۰] کرتے ہو  پھر انہیں نصیحت[۱۱] کرو اور  الگ بستر پر ہو جاؤ [۱۲]  اور ان کا حوالہ دو /ان کو سامنے  لاؤ [۱۳] ۔ تو اگر انہوں نے تمہارے ساتھ تعاون کیا[۱۴] پھر ان کے خلاف راستہ نہ تلاش کرو[۱۵]۔ بے شک اللہ بالا اور بڑا ہے۔[۱۶]

۴:۳۵ اور اگر تم (اربابِ اختیار )نے دونوں کے درمیان تعلقات بگڑنے کا خدشہ کیا تو ثالثوں/منصفوں کو مقرر کرو، ایک شوہر کے خاندان سے اور ایک بیوی کے [۱۷]۔ اگر وہ امن چاہتے ہیں ، اللہ ان کے درمیان ہم آہنگی لائے گا۔ [۱۸] بے شک اللہ جاننے والا، طاق ہے۔

۴:۳۶ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کچھ شریک نہ کرو، اور اچھائی کرو اور اپنے والدین، اپنے رشتہ داروں/خاندان [۱۹]، یتیموں، مسکین، ہمسایہ تمہارے نزدیک اور دور ، تمہارے پہلو میں ساتھی، مسافر  اور وہ جن سے تمہارا معاہدہ پیمان ہے سے رحم دلی سے پیش آؤ۔ بے شک اللہ خود فریب، متکبر ، گھمنڈی کو پسند نہیں کرتا۔ [۲۰]

۴:۳۷ (جو) بخیل ہیں اور دوسروں کو بخل کی تلقین کرتے ہیں اور اللہ نے اپنے فضل سے جو عطا کیا اس کو چھپاتے ہیں[۲۱]  – اور اللہ نے کافروں کے لئے ذلت کا عذاب تیار رکھا ہے۔[۲۲]


فٹ نوٹ

۱ — ۔ یہ سورت نساء کی پچھلی آیات جو میراث اور شادی کی بات کرتے ہیں سے جاری ہے۔  کچھ مواقع میں مردوں کو ورثہ کا خواتین سے زیادہ حصہ دیا گیا ہے تو یہ آیت لوگوں (منطقی طور پہ خواتین) کو ہدایت دے رہی ہے کہ اللہ نے کچھ کو دوسروں کے اوپر جو زیادہ فضل دیا ہے اس کی طمع نہ کرو کیونکہ مال کی اس تقسیم کی وجہ ہے۔ یہاں پر فضل کا لفظ استعمال ہوا ہے جو قرآن میں ہمیشہ مادی دولت کے مطلب میں استعمال ہوتا ہے ، اس کے علاوہ دوسرے معنی میں نہیں۔

۲ — ۔ یہ جملہ اس بنیاد قائم کو کرتا ہے کہ مردوں اور عورتوں دونوں کو کمانے کا اور آمدنی کا اپنا ذریعہ ، چاہے تجارت یا کوئی اور، رکھنے کا حق ہے۔ قرآن میں میراث کی تقسیم کسی کے کمانے کے حق یا اس کی کمی کو متاثر نہیں کرتی۔

۳ – یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ ‘وہ جن سے ہمارا معاہدہ ہے’ پر ہمارا اپنی دولت خرچ کرنا ضروری ہے۔ سیاق و سباق میں غالباً عقد کی بات ہو رہی ہے جس میں مردوں پر  زیادہ تر مالی ذمہ داری ہوتی ہے۔ چنانچہ ۴:۳۲،۳۳  ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ  ہمیں دوسروں کی دولت کی ہوس نہیں ہونی چاہیے اور  جن کے پاس  اضافی دولت ہے ان کو لازمی طور پر خاندان کے وہ لوگ جن کو ضرورت ہے پر خرچ کرنا  چاہیے۔

۴ — ‘سہارا دینے والوں’ کے لیے استعمال شدہ لفظ ‘قوامون’ ہے، جس کی جڑ ق-و-م ہے۔ لفظ کی یہی صورت  آیات ۴:۱۳۵ اور ۵:۸ میں انصاف کے لیے کھڑے ہونے کے معنی میں استعمال  ہوئی ہے۔ یہ لفظ اور اس کے مرکبات قرآن کریم میں ۶۶۰ سے کم دفعہ استعمال نہیں ہوئے ۔ اور  ہر موقع پر مسلسل ق-و-م کے معانی  کھڑے ہونا، کسی (مقصد) کے لیے کھڑے ہونا، قائم کرنا ،سہارا دینا، برقرار رکھنا رہا ہے۔ اکثر یہ نماز برقرار رکھنے کے مطلب میں استعمال ہوتا ہے (جیسے کہ ۲۰:۱۴ )۔ ۴:۳۲-۳۴   کے دولت کے سیاق و سباق میں ق-و-م مردوں کی وراثت میں حاصل کردہ دولت کا حصہ اپنی بیویوں پر خرچ کرنے کی ذمہ داری کا مفہوم رکھتا ہے۔ ۴:۳۲ سے ۳۴ کا تسلسل سیاق و سباق میں منطقی ہے کیونکہ پہلے یہ وضاحت ہوئی ہے کہ کس دولت کی بات ہو رہی ہے اور دوسرا یہ کہ اسے کیسے خرچ کرنا ہے۔ اور اس کے باوجود کہ یہ سیاق و سباق میں منطقی نہیں ہے، لفظ کے عام قرآنی استعمال  کے خلاف ہے اور قرآنی آیات سے متصادم ہے  مترجمین  نے بدبختی سے ق-و-م کے معنی کو گھما کر یہ دعوی   کیا ہے کہ مرد خواتین کے سرپرست ہیں  ۔

۵۔  ‘جو اللہ نے بعض کو دوسروں کے اوپر دیا ہے ‘  ۴:۳۲ کے الفاظ سے کافی مماثل ہے۔ یہاں پر فضل کا لفظ استعمال ہوا ہے، پھر سے مادی دولت کے مفہوم میں۔ الفاظ جمعِ مذکر میں ہے (جو دونوں  جنسوں کو شامل کر سکتا ہے) اور  مردوں اور عورتوں کے درمیان باہمی ہے۔  بنیادی طور پہ اس کا پچھلی آیات سے منطقی تسلسل ہے، کہ  مرد عورتوں کی کفالت کرنے والے ہیں فضل (دولت) جو اللہ نے بعض کو دوسروں کے اوپر دیا ہے کی  تقسیم کے ذریعے ۔ مترجمین نے اکثر اس کا ” اللہ نے مردوں کو عورتوں کے اوپر ‘بڑائی/فضیلت’ دی ہے ” ترجمہ کر کے گڑبڑ کی ہے ۔  یہ قواعدی سطح سے غلط  ہے اور یا تو مکمل ناقابلیت یا منافقانہ نظریہ کا جان بوجھ کر پھیلاؤ اس کا باعث ہے۔

۶۔ ‘خرچ کیا ‘ یعنی دولت جو خرچ ہو چکی ہے۔

۷۔  متقی کے لیے استعمال شدہ  لفظ ‘قانتات’ ہے، قنوت سے، جڑ ق-ن-ت  ۔ یہ آیت ۳۳:۳۵ میں  خدا کے فرمانبردار مردوں اور عورتوں  کے لیے استعمال ہوا ہے۔ ہر دفعہ یہ لفظ ان لوگوں کے لیے استعمال ہوتا ہے جو صرف اللہ کے اطاعت شعار ہیں، کسی انسان کے نہیں۔ مترجمین نے اس لفظ کو ‘شوہروں کی فرمانبردار ‘ تسلیم کیا ہے، اس کے باوصف کہ شوہروں کا لفظ قرآن میں ہے ہی نہیں۔ مترجمین نے خدا سے فرمانبرداری  کو شوہر سے فرمانبرداری  کے مساوی قرار دے دیا ہے، جو روایتی مقالہ میں عام ہے اور صاف شرک ہے۔ یہ بات رہتی ہے کہ ‘قانتات’ کا استعمال صرف خدا کی بندگی کے مطلب میں ہوتا ہے ، اور یہی لفظ آیت ۶۶:۱۲ میں مریم ، جن کا کوئی شوہر نہیں تھا، کے حوالے سے  استعمال ہوا ہے ۔

۸۔   عام استعمال میں حافظ وہ ہے جس نے قرآن کو یاد کیا ہو۔ قرآن میں حافظ وہ ہے جو  ظاہر اور باطن دونوں میں اپنے اخلاق کی حفاظت کرتا/کرتی ہو۔ غیب کا ہر استعمال اس ان دیکھی کشور کے لیے ہوا ہے جس کا خدا مرکزی محافظ ہے ۔ قرآنی استعمال اور تفسیر کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ جملہ کہتا ہے کہ صالح خواتین نے خدا سے بندگی کے اظہار میں غیب میں اپنے اخلاق کی حفاظت کرنی ہے ۔  لہذا مردوں اور عورتوں کے باہمی فرائض،  خاص طور پہ عقد میں، بتائے گئے ہیں : جبکہ مردوں پر مالی ذمہ داری کا اضافی  فرض ہے، خواتین پر صرف اپنے اخلاق کی حفاظت ضروری ہے   ۔

۹۔ نشوز ،   جڑ ن-ش-ز۔ یہ لفظ آیت ۴:۱۲۸  میں شوہر کے محتمل بے حیا  رویہ  یا بری /ناجائز حرکت کے لیے بھی استعمال ہوا ہے ۔ مترجمین نے اکثر نشوز کا ترجمہ  ‘شوہروں سے نافرمانی’   کیا ہے ۔  یہ تقریباً مزاحیہ ہے، کیونکہ اگر ہم ۴:۱۲۸-۳۰ کے لیے بھی یہی مفہوم سمجھے تو اس کا مطلب ہوا کہ عورت اپنے شوہر کی اس سے ‘نافرمانی’  کی بنا پر تلافی یا طلاق مانگ سکتی ہے ۔ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ نشوز کا ترجمہ زوج کے مطالبات کی نافرمانی کرنا غیر معقول اور غلط ہے، اور یہاں پر محض محتمل ازدواجی ناچاقی یا سوالیہ برتاؤ کی بات ہو رہی ہے ۔ اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ نشوز کے مختلف معانی ہیں اور شوہر اور بیوی میں سے کوئی بھی اس کا اندیشہ کر سکتا ہے ۔

۱۰۔   خافه ،  اندیشہ۔ اس کو مختلف  طریقوں سے سمجھا جا سکتا ہے  اور یہ ایسی چیز کی بات کرتا ہے جو ثابت نہیں ہوئی ہو۔ اس کا موازنہ ۴:۱۵،۱۶ اور ۲۴:۲ جیسی آیات سے کیا جا سکتا ہے جس میں عدالت چار معتبر گواہوں کے ذریعے  مرد اور خواتین کو کھلی فحاشی  بدکاری کا خطا وار پاتی ہے۔ یہ آیت قابل ثابت غلط کام کے متضاد کی بات کر رہی ہے  یعنی  اثم کا صرف اندیشہ ہے اس لیے سزا کا قدم نہیں اٹھایا جا سکتا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ شوہر کو خود نشوز کرتے  ہوئے بیوی سے اس کا اندیشہ ہو۔

۱۱۔ عربی لفظ کا معنی  نصیحت یا ہدایت۔ یہی لفظ حضرت لقمان کی اپنے بیٹے کو سورت ۳۱ ،آیات  ۱۲ سے ۱۹ میں نصیحت کے لیے استعمال ہوا ہے ۔ نصیحت یعنی اچھائی کی ہدایت اور برائی سے روکنا ایسی چیز ہے جو صورت حال کے مطابق سب مسلمان ایک دوسرے کو دے سکتے ہیں ۔ ۴:۳۴ میں یہ انسدادی قدم ہے جس کو سزا نہیں کہا جا سکتا کیونکہ بیوی کا غلط کام  محتمل ہے یعنی ثابت نہیں ہوا۔

۱۲۔ ‘ الگ بستر پر ہو جاؤ’ کے لیے هَجَرَ کا لفظ استعمال ہوا ہے، هِجر سے،  معنی ہجرت۔ یہ لفظ  غیرجانبدار ہے (نہ منفی نہ مثبت  حیثیت رکھتا ہے) اور محض کسی شخص یا چیز سے ہٹ جانے کا مفہوم رکھتا ہے ۔ قواعد سے ثابت ہوتا ہے کہ ازدواجی بستر چھوڑنے کا حکم شوہر کو دیا ہے، بیوی کو نہیں مگر کچھ مترجمین نے باطل طور پہ ترجمے میں  بیوی کو الگ کرنے کا کہا ہے اور سزا  اور عداوت کی نشاندہی کی ہے۔  یہ درست نہیں ہے کیونکہ  ۴:۳۴  شوہروں کو ازدواجی بستر چھوڑنے کا حکم دے رہا ہے تاکہ جسمانی/جنسی زبردستی کا خدشہ کم ہو اور دونوں کو  غصہ ٹھنڈا کرنے کا وقت ملے۔  غور کریں کہ قرآن میں ازدواجی ناچاقی یا جھگڑوں کے وقت جنسی تعلقات روکنا مردوں پر ہے۔ یہ روایتی اسلام سے کافی مختلف ہے جس کے مطابق مردوں کے پاس جنسی تعلقات  کا غیر مشروط  حق ہے۔ جنسی تعلقات کی مزاحمت انقطاع ظاہر کرنے کے لیے نہیں  بلکہ غصہ ٹھنڈا کرنے کا وقت دینے کے لیے ہے۔ یہ عارضی ہے اور  ۲:۲۲۶-۲۷   کے مطابق چار مہینوں تک محدود ہے جس کے بعد یا تو ان کی  ثالثی سے صلح ہو جائی گی یا پھر طلاق۔

۱۳۔ لفظ  دَرَبَ ہے، جس کے کافی مختلف معانی ہیں اور  جو کافی حد تک لسانی طور پہ ارتقا سے گزر چکا ہے۔  اس کا مرکزی مطلب قرآن میں دوسری جگہ اس لفظ کے استعمال سے ‘سامنے لانا’ ظاہر ہوتا ہے۔ یہاں پر اس کا معنی زوج کو ثالثی کے لیے ‘سامنے لانا’ ہو سکتا ہے، جیسے ۴:۳۵ میں بتایا گیا ہے۔ اس معنی سے ۴:۳۵ سے تعلق ملتا ہے اور پتا چلتا ہے کہ دوسرے لوگ اختلاف میں کیسے شامل ہوئے ۔

۱۴۔ یہاں پر لفظ  أَطَعنَكُم  استعمال ہوا ہے ۔ آیت کے اس حصے کے ‘تابعداری کریں’ (محمد جونا گڑھی) ، ‘اطاعت کرنے لگیں’ (ذیشان حیدر جوادی) ، ‘ مطیع ہو جائیں’ (مودودی) جیسے ترجموں سے یہ تاثر جاری رہتا ہے کہ خواتین پر اپنے  شوہروں کی فرمانبرداری کرنا فرض ہے حالانکہ یہ درست نہیں ہے۔ ( فٹ نوٹ ۷ اور ۹ دیکھیے)۔ ادھر زبردستی کی تابعداری کی بات نہیں  ہو رہی ہے بلکہ تعاون کی اور اگر  ۴۱:۱۱ جیسی آیات کو دیکھا جائے تو اس میں لفظ طَوعًا  جبراً  کے متضاد  کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ اس آیت میں ہر صورتحال میں تعاون کی بات نہیں ہو رہی بلکہ خاص طور پہ بیوی کی شوہر کی صلح کی کوششوں کے ساتھ تعاون۔

۱۵۔  راستہ کا لفظ سبیلا ۔ یہاں پر ۴:۳۴ یہ کہے رہی ہے کہ اگر ایک خاتون اپنے شوہر کی صلح کی کوششوں کے ساتھ تعاون کرے تو شوہر کو اس کے خلاف راستہ نہیں ڈھونڈنا چاہیے۔ غالباً یہ طلاق کی بات ہو رہی ہے۔ ۴:۳۴ اور ۳۵ کا مرکزی مقصد ازواج کے درمیان صلح لانا اور طلاق روکنا ہے، جو ان کی صلح کے لیے سنجیدہ کوششوں اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کے ذریعے سے حاصل ہو سکتا ہے۔ یہ قرآن میں طلاق کے عمل میں مردوں کو  اس ہدایت کا عکاسی ہے: “یا حسنِ سلوک سے انہیں رکھو یا حسنِ سلوک سے انہیں  چھوڑو ۔”  اگر بیوی تعاون کرتی ہے تو اسے شادی میں روکنا چاہیے اور اس کے لیے صلح کا راستہ دشوار نہیں  بنانا چاہیے۔ اگر وہ تعاون نہیں کرتی تو اگلی آیت کے مطابق منصفوں کو مقرر  کیا جا سکتا ہے اور اگر اس سے بھی حل نہ ملے تو  طلاق کا راستہ اپنایا جا سکتا ہے۔ جسمانی نقصان یعنی مار کی طرف رجوع ہے ہی نہیں۔

۱۶۔ یہ ان سب کے لیے تنبیہ ہے جو قرآن کو غلط سمجھ کر اسے ظلم کا ذریعہ بناتے ہیں۔

۱۷۔یہ آیت ازواج کے علاوہ کسی سے مخاطب ہے، غالباً  عدالت یا ارباب اختیار  سے ۔ بیوی اور شوہر کے درمیان فراق -شقاقَ- کا اندیشہ اگر ہو تو یہ دونوں کے خاندانوں سے منصفوں کو مقرر کرے  گی۔   طلاق کا فیصلہ تب ہی ہو سکتا ہے جب  ثالثی کامیاب نہ ہو۔ تعاون اور فراق/ تعلقات بگڑنے  کے درمیان فرق دیکھیے، یعنی اگر بیوی تعاون کرتی ہے تو ثالثی کی ضرورت نہیں ،لیکن اگر نہیں کرتی  اور دونوں کے درمیان تفریق کا اندیشہ ہو ، پھر مقتدرین منصفوں کو مقرر کریں گے۔ اگر یہ کامیاب نہیں ہوا اور صلح نہیں ہو سکی تو طلاق کا راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔

۱۸۔   یہاں پر مقصد امن اور صلح ہے کیونکہ بیوی اور شوہر میں سے کوئی بھی قصوروار  ثابت نہیں  ہوا۔ نشوز کا اندیشہ کوئی ثابت چیز نہیں ہے، اور قرآن تصدیق شدہ اور محتمل اثم کے درمیان واضح طور پر فرق کرتا ہے۔ خدا ثالثی اور عدالتی عمل کی نصیحت کرتا ہے۔ اگر شوہر کو بیوی پر زنا کا شک ہے تو ۲۴:۶-۹  کے مطابق عدالت کو اس معاملے میں شامل کرنا ہو گا۔  اگر شوہر کو کسی کم اثم کا شک ہے تو ۴:۳۴ کے مطابق معاملے کا حوالہ ارباب اختیار کو ثالثی کے لیے دینا ہو گا۔ وہ “سزا” دینا اپنے اوپر نہیں لے سکتا۔

۱۹۔ ۴:۳۶ آیت خاندان اور رشتہ داروں سے حسنِ سلوک سے پیش آنے کی تاکید کرتی ہے، جس سے وہ مترجمین اور رسوا ہوتے ہیں جو ۴:۳۴ کے بہانے سے خواتین کے خلاف تشدد کی اجازت دیتے ہیں۔

۲۰۔ یہاں پر فضل کا پھر سے ذکر ہے۔ جن کے پاس یہ ہے ان کو اسے چھپانے کے خلاف تلقین کی ہے۔   دنیاوی فضل اور میراث کے موضوع ان تمام آیات میں پائے جاتے ہیں جو سورت نساء کے موضوع میں لوگوں کے فرائض اور  باہمی حقوق پر زور دیتی ہیں۔

۲۱۔ یہاں دوبارہ ان کے لیے تنبیہ ہے جو قرآن کو سمجھنے میں ناکام ہوتے ہیں اور خدا کے خلاف دروغ گوئی کرتے ہیں ۔


یہ بھی سمجھا گیا ہے کہ ۴:۳۴ مردوں کو ازدواجی انقطاع کے وقت پر عورتوں سے الگ ہونے کا کہے رہا ہے۔ یہ ترجمہ معقول فہم میں شمار ہوتا ہے اور میرے حساب سے قابلِ قبول بھی ہے۔ قرآن کثیر معنویت کا حامل وجہ سے ہے، کہ ایک آیت کو کئی معقول طریقوں سے سمجھا جا سکتا ہے تاکہ مختلف صورتحال مخاطب ہو۔ اگرچہ  یہ بتانا ضروری ہے کہ کون سے ترجمے اور فہم معقول نہیں ہیں اور پھر ان کو غلط ثابت کرنا ہے۔

قرآن میں واضح ہے کہ خواتین پر تشدد جرم ہے اور ظلم ہے۔ حتی کہ طلاق کے وقت بھی قرآن نے مردوں کو اپنی بیویوں کو  کسی بھی طرح  نقصان پہنچانے یا ان پر ظلم کرنے سے سختی سے  منع کیا  ہے:

“اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور وہ مدّاُ عدت کے خاتمہ کے قریب پہنچ جائیں تو یا انہیں اصلاح اور حسنِ معاشرت کے ساتھ روک لو یا انہیں حسنِ سلوک کے ساتھ آزاد کر دو اور خبردار نقصان پہنچانے کی غرض سے انہیں نہ روکنا کہ ان پر ظلم کرو کہ جو ایسا کرے گا وہ خود اپنے نفس پر ظلم کرے گا اور خبردار آیات الٰہی کو مذاق نہ بناؤ. خدا کی نعمت کو یاد کرو. اس نے کتاب و حکمت کو تمہاری نصیحت کے لئے نازل کیا ہے اور یاد رکھو کہ وہ ہر شے کا جاننے والا ہے ۔” (۲:۲۳۱)

” اے ایمان والو تمہارے لئے جائز نہیں ہے کہ جبرا عورتوں کے وارث بن جاؤ اور خبردار انہیں منع بھی نہ کرو کہ جو کچھ ان کو دے دیا ہے اس کا کچھ حصہ لے لو مگر یہ کہ واضح طور پر بدکاری کریں اور ان کے ساتھ نیک برتاؤ کرو اب اگر تم انہیں ناپسند بھی کرتے ہو تو ہو سکتا ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرتے ہو اور خدا اسی میں خیر کثیر قرار دے دے۔” (۴:۱۹)

(ترجمہ: سید ذیشان حیدر جوادی)

ان آیات سے واضح ہے کہ خواتین کو تکلیف پہنچا کر  ان پر ظلم کرنا مکمل حرام ہے۔ قرآن میں کئی جگہوں پر کہا گیا ہے کہ ظلم قتل سے بدتر ہے (۲:۱۹۱) اور صرف ایک معصوم جان لینا پوری انسانیت کے قتل کے برابر ہے۔ (۵:۳۲)  چنانچہ ظلم کے وقوع کا ارتکاب کرنا  پوری انسانیت کے قتل سے بڑا گناہ ہے۔

میری مسلمانوں سے گزارش ہے کہ وہ اس کے بارے میں سوچیں۔

کسی اور انسان پر ظلم کرنا، خاص طور پر بیوی پہ، ایک صغیر بد اخلاقی کی بات نہیں ہے۔ یہ خدا کی آنکھوں میں ایک بڑا گناہ ہے، ایسی جس کی سزا ابداً جہنم ہو سکتی ہے۔

آیت ۴:۳۴ کا غلط ترجمہ کر کے اس کو خواتین کے خلاف تشدد کے جواز کے لیے بطور دلیل پیش کرنا برے اعمال کی تاکید  اور اچھے اعمال کو روکنا ہے، جو کہ مسلمان مرد اور عورتوں پر خدا کے فرمان (۹:۷۱) کا الٹ ہے۔

تو مترجمین اس کھلے تضاد کو کیسے  درست ثابت کرتے ہیں؟

کافی مترجمین یہ اشارہ دیتے ہیں کہ وہ خواتین کھلی فحاشی بدکاری کر چکی ہیں جس کی وجہ سے مبینہ طور پر جسمانی سزا کا جواز بنتا ہے۔ البتہ قرآن کے مطابق نشوز کا محض اندیشہ ہے یعنی اس کا صرف شک ہے۔  کسی کو جسمانی ‘سزا’ ایک ایسے غلط کام کے لیے کیسے دی جا سکتی ہے جو  ثابت شدہ ہی نہیں ہے؟ یہ صاف نا انصافی ہے اور ایک غیر اسلامی سوچ ہے۔

وقاس محمد لکھتے ہیں: (انگریزی سے ترجمہ)

میں ۳:۳۴ کے روایتی/عام فہم میں ایک سوچ جو ظاہر ہوتی ہے، یہ کہ اندیشہ کی بنا پر کسی کو سزا دینا کیونکہ ایک اس اقتدار کا حامل ہے، پر خیالات سے ختم کرنا چاہوں گا ۔یہ عام شخص کے لیے تو ایک ناانصاف عمل ہے، مگر جب مذہب  کے نام پر اعمال کی بات  آتی ہے تو لوگ وحشیانہ سے وحشیانہ کام کر لیں گے، چاہے کتنا بھی غیر معقول۔  لیکن ایسی حرکت کتنی طالح ہے؟ جواب کے لیے قرآن کی طرف مڑتے ہیں۔

یہ لفظ ” اندیشہ/ڈر/خوف ” (عربی جڑ : خ-و-ف) قرآن میں ۱۲۰ مرتبہ استعمال ہوا ہے اور دوسری مثالیں ہیں جس میں مسلمانوں کو کسی چیز کا اندیشہ/ ڈر  ہوتا ہے (مثلاً  وصیت کرنے والے سے ناانصافی/ گناہ کا اندیشہ [۲:۱۲۸] ، خدا کے حدود کو قائم نہ رکھنے کا اندیشہ [۲:۲۲۹] ، یتیموں یا زوجیت میں ان کی ماؤں سے انصاف/عدل نہ کرنے کا اندیشہ [۴:۳] ، جن کے ساتھ عہد ہے ان سے دغا کا اندیشہ [۸:۵۸] ،  غیر متوقع ملاقاتی سے ڈر [۳۸:۲۲] ) اور ان سب موقعوں میں جسمانی سزا کی طرف رجوع کا کوئی ذکر نہیں ہے۔  مجھے اس پر انتہائی حیرانی ہوئی کہ اندیشہ کی بنا پر سزا یا جسمانی سزا کی دھمکی کی صرف ایک مثال ہے، اور وہ شخصیت جو اس کی دھمکی دے رہا ہے قرآن میں سب سے بڑا ظالم ہے: فرعون۔

“اور فرعون نے کہا: ‘چھوڑ دو مجھے موسی کے قتل کے لیے اور اسے اپنے رب کو پکارنے دو۔ مجھے اندیشہ ہے کہ وہ تمہارا دین بدل دے گا یا زمین پر فساد پھیلائے گا۔’ ” (۴۰:۲۶)

کیا خدا مسلمانوں کو ایسے رویے کا فرمان دے گا جس کا مشابہ کسی بھی طرح سے ظالموں میں سب سے بڑا سے کیا جا سکتا ہے؟

فرعون کی اس کہانی اور جو دلیل وہ پیش کرتا ہے کے بارے میں ضرور سوچیے گا جب اگلی مرتبہ کوئی ۴:۳۴  میں اندیشہ کی بنا پر جسمانی سزا کی حمایت کرے۔

واقعی۔ کیسے اور کیوں خدا مسلمانوں کو انسانیت کے سب سے بڑے ظالم کی طرح برتاؤ کرنے کا  حکم دے گا؟

ذرا سوچیے۔

جو مترجمین نے کیا ہے وہ شیطانی اور فرعونی حرکت سے کم نہیں ہے۔ قرآن ہمیں ان فہموں کے خلاف تنبیہ دیتا ہے جو سیاق و سباق کو مد نظر نہیں رکھتے، جو گھمنڈی اور منتخب ہیں، لیکن روایتی  مترجمین نے ان سب تنبیہات کو نظر انداز   کیا۔ اب یہ ہمارے اوپر ہے کہ ہم ظلم کے لیے مذہبی جواز  کو غلط ثابت کریں۔ کچھ بھی کم خدا کے خلاف تہمت ہے۔ ہم اس میں شریک نہیں ہو سکتے۔

قرآن میں ایک مرکزی موضوع تخلیق اور خود انسانیت کے لیے عزت ہے۔ یہ روایتی مفسرین نے نظر انداز کیا ، جو اپنی برتری ثابت کرنے میں اتنے مشغول تھے کہ انہوں نے اپنی قُبح قرآن پر تھوپ دی۔  یاد رکھیں کہ وہ ابلیس تھا، شیطان ، جس نے پہلے فعلیاتی صفات کی بنا پر فضیلت کا  دعوی کیا تھا: ”  میں اس (آدم) سے بہتر ہوں کیونکہ تو نے مجھے آگ سے بنایا اور اسے مٹی سے بنایا۔ ” (۷:۱۲) ابلیس کے غرور نے اسے سچ سے اندھا کر دیا۔  یہی حالت ہے ان مفسرین کی جنہوں نے ہماری اسلام کی اور خدا کی سمجھ تباہ کی۔ وہ خدا کی عبادت نہیں کرتے بلکہ اپنی انا کی، شرک کی کم اور سب سے ترس زدہ صورت۔ ہمارا کام ہے ان کو ذمہ دار ٹھہرانا اور  وہ جو ان کے غلط کاموں سے غلامی پر مجبور ہوئے ہیں کو بچانا۔

“اور اللہ  جہانوں کے لیے ظلم کا ارادہ نہیں رکھتا.” (۳:۱۰۸)

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

w

Connecting to %s

WordPress.com.

Up ↑

in grace and song

My Search for Beauty

History of Islam

An encyclopedia of Islamic history

if oceans were ink

a rhapsody. tempests of asha.

We Been Here

Words from a Black, Latina/x Muslim woman; who's tired of our stories being silenced

A good tree

...its root set firm, its branches reaching into heaven...

theblackslim

islam, mental health, beauty, life, all through the eyes of a black muslim.

Anonymous Arabist وين الناس

Mostly a look at the portrayal of Arabs in popular culture

Hit 'em with some facts (and opinions)

World issues, life issues, our issues.

Quranist Voices - Musings on Being Quranist

Quranists Talk on all Things Quranic

Freedom from the Forbidden

All things gender and Islam. No bigotry is allowed in this feminist territory.

A Sober Second Look

Having converted to Islam way back in the '80's, I've had time to think about it

Muslim Reformation

Looking for a Rational & Spiritual Outlook on Islam, Devoid of Superstition? You've come to the right place! Subscribe! #BetterMuslimProject

Forever young.

"Speak now or forever hold your peace in pieces."

the fatal feminist

Lethal poison for the System.

%d bloggers like this: